Home Top Ad

Responsive Ads Here

معذرت یا معافی

معذرت کا انوکھا انداز

ایک بادشاہ نے دسترخوان لگانے کا حکم دیا اپنے خاص مہمانوں کو دعوت دی جب دسترخوان لگ گیا تو خادم اپنے کاندھے پر کھانے کی رکابی لے کر آیا مگر جب بادشاہ کے نزدیک آیا تو  اس پر ہیبت طاری ہوگئی اور اس کا پیر پھسل گیا رکابی سے تھوڑا شوربہ نکل کر بادشاہ کے  کپڑوں کے کنارے پر گرا اس پر بادشاہ آگ بگولہ ہوگیا اور خادم کو قتل کرنے کا حکم کر دیا خادم نے جب بادشاہ کا طیش دیکھا اس پر بادشاہ کا عزم واضح ہوگیا تو رکابی میں موجود سارا شوربہ اس نے بادشاہ کے سر پر انڈیل دیا تو بادشاہ نے غرا کر کہا ارے تیری بربادی ہو یہ تو کیا کر رہا یے
تو خادم نے عاجزانہ انداز میں کہا بادشاہ سلامت میں نے یہ حرکت آپ کی عزت وشان غیرت  کے تحفظ کے لیے کی یے
 تو بادشاہ نے کہا وہ کیسے؟
میرے قتل پر لوگ یہ نا کہیں کہ ہمارا بادشاہ عجب جلالی یے خادم کی چھوٹی غلطی پر اسے قتل کروا دیا حالانکہ خادم نے جان بوجھ کر یہ غلطی نہیں کی تھی
پھر لوگ بادشاہ کو ظالم وجابر گرداننے لگیں گے میں نے جان بوجھ کر بھاری غلطی کرنے کی جرات کی تاکہ لوگ اسے معمولی غلطی نا سمجھیں اور آپ کو بھی معذرت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور آپ کی ہیبت وعزت بھی لوگوں کے دلوں میں قائم رہے گی خادم کی یہ گفتگو سن کر بادشاہ تھوڑی دیر سر جھکائے رہا اور پھر سر اٹھا کر یوں گویا ہوا اے فعل قبیح حرکت کا ارتکاب کرکے بہترین اسلوبی سے معذرت کرنے والے ہم نے تیرے فعل قبیح اور گناہ عظیم کو تیری اچھی معذرت کے سبب تجھے معاف کیا جا تو اللہ کے لیے آزاد ہے
.
    منقول