Copied
دوست کے ابا جی فوت ھو گئے ، دھاڑیں مار مار کر رویا لیکن بعداِز کفن دفن ایک دم سنجیدہ ھو گیا کہ کفن 3 ھزار کا آیا ، گورکن نے 15 سو لیے ، مولوی صاحب نے جنازہ پڑھائی ، دعا کرائی اور مردہ بخشوائی کے 4 ھزار اِینٹھے..
دوسرے دن قُل خوانی پر 30 ھزار کا خرچ آیا ، 4 ھزار مسجد کو دیئے ، 8 ھزار کے کپڑے اِن رشتہ دار خواتین کو جو دور دراز سے تعذیت کےلیے تشریف لائیں تھیں ، 3 ھزار تمبو قنات والا لے گیا ، 3 ہزار حافظ صاحب نے لے کر تین دن قبر پر قرآن پڑھا ، 3 ھزار پیر صاحب کی نظر کیا جو پیرمحل سے تشریف لائے تھے..
9 ھزار میں جمعرات کی دیگ پکی ، اب چالیس روز تک مولوی صاحب کے گھر کھانا بھی بھجوانا ھے پھر چالیسویں پر باقی کسر نکلے گی..
کل میں تعذیت کے لیے گیا تو اللہ یار ایک سرد آہ بھر کر بولا..
"زندگی تو موت کی امانت ھے لیکن باباجی اگر گندم کی فصل اُٹھانے کے بعد فوت ھوتے تو ذرا اچھے طریقے سے رُخصت کرتا ، پتا نہیں نجات بھی ھو گی کہ نہیں"..
میں نے کہا : "بھائی نجات تو اعمال پر ھے باقی تو رسمیں ھیں"..
کہنے لگا : "بھائی میں اپنی نجات کی بات کر رھا ھوں ، اِس ظالم برادری کے ھاتھوں ، بابا جی تو بخشے بخشائے تھے"..