Home Top Ad

Responsive Ads Here

ہاتھوں سے چھوٹتی پرانی روایات



کہاں گیا یہ وقت

خالہ: امی آپ کو سلام کہہ رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ تھوڑا سا لہسن تو دیدیں دال کو تڑکا لگانا ھے۔
اور خالہ آگے سے کہتی: "اوئے  تو  ادھر آ ناں"، میں ذرا تیرے کان تو مروڑوں، تو کئی دنوں سے نظر کیوں نہیں آ رہا۔ 
یہ لے لہسن اور ذرا سی دال مجھے بھی چکھا دینا۔
جی یہ کچھ زیادہ پرانے دور کی بات نہیں، اس ہمسائیگی اور ہمسائیگی سے جڑی روایات اور روابط کو مرے ہوئے بس چند سال ہوئے ہیں۔

اب ساتھ بسنے والا بھائی، بھائی کے گھر بنا بلائے چلا جائے تو قیامت آ جاتی ھے، 
ہمسایوں کا بچہ وقت بے وقت گھنٹی بجا دے تو۔
بغیر نمک کے کھانا کھا لینا قبول کیا جا رہا ھے مگر مانگنے کی ندامت اٹھانے کو کوئی تیار نہیں۔ 
رشتے مر رہے ہیں، ہمسائیگیاں اور ان سے جڑے حقوق اور آداب کو پامال کیا جا رہا ھے۔ 
صلہ رحمی تو کیا قطع تعلقی باعث فخر بنتی جا رہی ھے۔
ھم کہاں جا رھے ہیں کیا وقت آ گیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔ کہاں  پرانی روایات،  کہاں  گئے دیتے اور رشتے  نبھانے کی  چاہت!!!!
وقت پر لگا کر اڑ گیا ہے شاید۔۔۔۔
نیٹ لیا گیا مواد