Home Top Ad

Responsive Ads Here

ایک دلچسپ واقعہ محمد زکریا نوراللہ کی آپ بیتی سے



مولانا  محمد  زکریا  نوراللہ  کی آپ بیتی سےا قتباس
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نوراللہ مرقدہ  نے آپ بیتی میں اپنی ذات سے متعلق ایک بڑا دلچسپ واقعہ ذکر کیاہے۔ فرماتےہیں: 
ایک مرتبہ سفر سےواپسی پر جب میں ریل گاڑی سے اترا تو سخت پیاس محسوس ہوئی۔ سخت گرمی کا موسم تھا۔ *پلیٹ فارم* کےکنارے ایک *سکھ* کی دکان تھی جسمیں مختلف رنگ کےشربت تھے۔ میں دوکان پر گیا اور ایک بوتل کی طرف اشارہ کرتےہوۓ کہا کہ مجھےوہ فلاں شربت دےدو، *سکھ* نےمجھے اوپر سےنیچےتک بڑی غور سے دیکھا اور سخت انداز میں بولا : جاؤ یہاں سے۔ کوئی شربت وربت نہیں ملےگا۔ مجھے بڑا غصہ آیا کہ پیسے دیکر لے رہا ہوں۔ کوئی فری کا تھوڑی مانگ رہا ہوں۔ یہ سکھ بڑا حاسد قسم کا ہے۔ میں باہر آگیا۔ جو صاحب مجھے لینے آۓ تھے ، میں نے یہ واقعہ ان سےنقل کیا کہ وہ سکھ تو بڑا حاسد ہے، مجھے پیاس لگی ہے اور اس نےشربت دینےسےانکار کردیا۔ وہ صاحب مسکراۓ اور کہا: حضرت! وہ شربت کی دوکان نہیں, *شراب* کی دوکان تھی. یہ سن کر میں نےآسمان کی طرف چہرا کیا اور کہا *الحمدللہ* یا میرےاللہ ! تو نے مجھے آج بچا لیا، ورنہ اگر ایک گھونٹ بھی پی لیتا تو میرا کیا ہوتا؟ اور دل ہی دل میں اس سکھ بےچارےکا بہت شکر ادا کیا کہ اس نےمجھے شریف آدمی سمجھ کر دینےسےانکار کردیا۔

حضرت یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد فرماتےہیں :
میرے پیارو ! تم اگر متقیوں کی سی شکل ہی اختیار کرلو تو بہت سارے خرافات سے بچ جاؤگے۔