Home Top Ad

Responsive Ads Here

امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چا6


ہر حالت میں  پر امید  رہیں
سامان سے لدا ھوا ایک بحری جہاز محو سفر تھا کہ تیز ھواؤں کی وجہ سے وہ الٹنے لگا۔ قریب تھا کہ جہاز ڈوب جاتا، اس میں موجود تاجروں نے کہا کہ بوجھ ھلکا کرنے کیلئے کچھ سامان سمندر برد کرتے ھیں۔ تاجروں نے مشورہ کرکے طے کیا کہ سب سے زیادہ سامان جس کا ھو، وھی پھینک دیں گے۔ جہاز کا ‏زیادہ تر لوڈ ایک ھی تاجر کا تھا۔ اس نے اعتراض کیا کہ صرف میرا سامان کیوں؟ سب کے مال میں سے تھوڑا تھوڑ پھینک دیتے ھیں۔

انہوں نے زبردستی اس نئے تاجر کو سامان سمیت سمندر میں پھینک دیا۔ قدرت کی شان کہ سمندر کی موجیں اس کے ساتھ کھیلنے لگیں۔ اسے اپنی ھلاکت کا یقین ھو گیا، جب ‏ھوش آیا تو کیا دیکھتا ھے کہ لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا ھے۔

یہ ایک غیر آباد جزیرہ تھا۔ جان بچنے پر اس نے رب کا شکر ادا کیا۔ اپنی سانسیں بحال کیں. وھاں پڑی لکڑیوں کو جمع کرکے سر چھپانے کیلئے ایک جھونپڑی سی بنائی. اگلے روز اسے کچھ خرگوش بھی نظر آئے۔ ان کا شکار کرکے گزر ‏بسر کرتا رھا۔ ایک دن ایسا ھوا کہ وہ کھانا پکا رھا تھا کہ اس کی جھونپڑی کو آگ لگ گئی۔

اس نے بہت کوشش کی، مگر آگ پر قابو نہ پا سکا۔ اس نے زور سے پکارنا شروع کیا، تو نے مجھے سمندر میں پھینک دیا۔ میرا سارا سامان غرق ھو گیا۔ اب یہی جھونپڑی تھی میری کل کائنات، اسے بھی جلا کر راکھ کر ‏دیا۔ اب میں کیا کروں؟ یہ شکوہ کرکے وہ خالی پیٹ سو گیا۔

صبح جاگا تو عجیب منظر تھا۔ دیکھا کہ ایک کشتی ساحل پر لگی ھے اور ملاح اسے لینے آئے ھیں۔ اس نے ملاحوں سے پوچھا کہ تمہیں میرے بارے میں کیسے پتہ چلا؟ انہوں نے جو جواب دیا، اس سے تاجر حیران رہ گیا۔ ملاحوں نے کہا کہ ھمیں ‏پتہ تھا کہ یہ جزیرہ غیر آباد ھے لیکن دور سے دھواں اٹھتا ھوا نظر آیا تو سمجھے شاید کوئی یہاں پھنسا ھوا ھے جسے بچانا چاھئے۔ اس لئے ھن تمہارے پاس آئے۔ پھر تاجر نے اپنے پورا قصہ سنایا تو ملاحوں نے یہ کہہ کر اسے مزید حیران کر دیا کہ جس جہاز سے تمہیں سمندر میں پھینکا گیا، وہ آگے ‏جا کر غرق ھوگیا۔

یہ سن کر تاجر سجدے میں گر گیا، رب کا شکر ادا کرنے لگا اور کہا کہ پاک ہے وہ ذات جس نے مجھے بچانے کیلئے تاجروں کے ہاتھوں سمندر میں پھنکوایا۔ اپنے بندوں کے بارے میں وہی زیادہ جاننے والا ہے۔

حالات جتنے بھی ‏سخت ہو جائیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ رکھئے۔.

منقول