Home Top Ad

Responsive Ads Here

مرنا اور پیدا ہونا۔۔۔دنیا کا نظام



مرنا اور جینا
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شہر نجران کے ایک بزرگ آئے جن کی عمر دو سو برس تھی ۔*

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا :

*دنیا کو تم نے بہت دیکھا ، کیا پایا ؟*


*کہنے لگے چند ایک سال راحت کے ، چند ایک سال تکلیف کے ، ہر دن رات میں کوئی نہ کوئی پیدا ہوتا ہے ، کوئی نہ کوئی مر جا تا ہے ۔ اگر پیدا ہونا بند ہو جائیں تو دنیا ایک دن ختم ہو جائے ( کہ مرنے کا سلسلہ بھی ہے ) ۔ اگر مرنا بند ہو جائیں تو دنیا میں رہنے کی جگہ بھی نہ ملے ۔*

( اس لئے معتدل نظام یہی ہے کہ پیدا بھی ہوتے رہیں اور مرتے بھی رہیں ) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

*مجھ سے کوئی چیز مطلوب ہو ، میرے قابل کوئی خدمت ہو ، تو بتاؤ ، میں اس کو پورا کر دوں ۔

وہ کہنے لگے کہ :

جو عمر میری ختم ہو چکی ہے ، وہ مجھے واپس مل جائے ( یا آئندہ کو موت نہ آئے ) ۔*
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کر سکتا ۔

کہنے لگے : پھر مجھے آپ سے کچھ مانگنا بھی نہیں ہے ۔
منقول