Home Top Ad

Responsive Ads Here

اداس عیدیں

اداس عیدیں

عیدیں ہمیشہ اُداس ہوتی ہیں۔ شاید  ایک عمر میں  اداسی  آ جاتی ہے۔ یا کچھ اور باتیں  اور یادیں  عیدوں کو اداس کر جاتے ہیں۔
میں سوچتی ہوں کہ چند سال پہلے تک کیسے میں عید سے ایک مہینہ پہلے ہی عید کی تیاریاں شروع کر دیتی تھی کپڑے، سینڈل چوڑیاں اور مہندی پرفیوم کے بغیر تو عید نا ممکن تھی چاند رات پر پورا گھر سر پر اُٹھایا ہوتا تھا کہ صبح عید ہے اور میری ماں مجھے ڈانٹ دیا کرتیں تھی کہ گھر میں اتنے کام ہیں۔ 

لیکن کچھ عرصہ سے عید کے آنے جانے کا پتا ہی نہیں لگتا نہیں معلوم کہ میں بڑی ہوگئ ہوں کہ دل مر چُکا ہے نہ عید کے آنے کی خوشی ہے نہ عید کی خریداری کو دل کرتا ہے آج میری ماں خود کہتی ہیں کہ کپڑے لے آؤ جا کر اور سینڈل بھی لے لو اور مہندی کہاں ہے تمھاری لیکن اب دل نہیں کرتا۔۔

کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ صرف وہ ہماری زندگی سے خالی ہاتھ گئے ہیں لیکن حقیقت میں ہماری خوشیاں، خواہشیں، ہنسی سب ان کے ساتھ ہی چلا جاتا ہے۔ گئے ہوئے لوگ تو شاید واپس آ جائیں لیکن باقی خسارے نہ پورے ہوتے ہیں نہ ہم پہلے جیسے رہتے ہیں۔ اور نہ ہی زندگی  پہلے جیسی۔ بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ ہم بھی بدل  جاتے ہیں۔
منقول