Home Top Ad

Responsive Ads Here

گونگے کا خواب۔۔۔مختصر اقتباس


رات کی تاریکی 
یہ راتیں بھی عجیب ھوتی ہیں ان میں سردیوں کی چھاؤں کی سی خاموشی، خشک ندی میں پڑے تھوڑے سے پانی کی سی اداسی اور قلم میں رُکی سسکی کی طرح بہت سے اسرار ہوتے ہیں اندھیرے کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں مگر ایسے اندھیرے تو انتہائی کرب ناک ہوتے ہیں جو کسی روشنی کی عطا هوں مگر جس کی رات سے دوستی هو جاۓ تو اسے کسی اور دوستی کی ضرورت نہیں رہتی جو باتیں آپ نے دن کے ھنگامے اور شور میں اللّه سے کی ھوتی ہیں رب رات کو ان کا جواب دیتا ھے. رات کی تاریکی میں جب آپ یادوں کے چراغ جلاتے ہیں تو یوں لگتا ھے جیسے پرستان سے کوئی زمین پر اتر آیا ھے جیسے صحرا میں آگ لگی ہوئی ھے جیسے دھنک رنگوں کی تتلیاں خوشبو کے پھولوں سے مل رہی هوں .....................
 *طارق بلوچ صحرائی کی کتاب "گونگے کا خواب"  سے اقتباس*