Home Top Ad

Responsive Ads Here

بے ‏روزگاری ‏کی ‏اذیت ‏

بے روزگاری 
ایک لڑکی یونیورسٹی سے آرٹس کی ڈگری حاصل کرلیتی  ہے لیکن اسے کہیں بھی نوکری نہیں مل پاتی ۔
پانچ سال کی بے روزگاری کے بعد ... چڑیا گھر کے منیجر نے اس کی کہانی سنی ... اور اسے شیرنی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ، کیوں کہ ان کی شیرنی مر چکی تھی اور چڑیا گھر میں تنہا ببر شیر زندہ رہ رہا تھا ، جس کی وجہ سے ہر دن آنے والوں کی تعداد کم ہورہی تھی ...
لڑلی یہ آفر قبول کرلیتی ہے اور خود سے کہتی ہے،اس کام میں کوئی حرج نہیں ... پیسہ اہم ہے۔
لڑکی  یہ جاب کرنا شروع کرلیتی ہے اور اس لڑکی کی جلد کو شیرنی کی کھال سے ڈھانپ دیا جاتا ہے اور اسے دن میں 8 گھنٹے پنجرے میں رہنا پڑتا ہے ...
دن اسی طرح گزرتے رہے لوگ آتے اور پنجرے کے اندر شیرنی کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے رہے۔
 ایک دن گارڈ پنجرے کے گیٹ کو لاک کرنا بھول گیا اور اسے کھلا چھوڑ دیا ...شیر نے جب یہ دیکھا تو 
شیر آہستہ آہستہ لڑکی کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ، لڑکی خوفزدہ ہوجاتی ہے اور اسے اپنی موت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آنا شروع ہوجاتی ہے...
شیر اس کے پاس آتا اور کہتا ہے: گھبرانا نہی ... میں نصیر ہوں ... میں نے اکنامکس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔