سو_روپے
ایک دوست اپنی آپ بیتی کا ذکر کرتے ہیں کہ آج سے دس بارہ سال پہلے جب میرے والد صاحب فوت ہوئے تو میں سب سے بڑا تھا ۔ چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری مجھ پر پڑ گئی ۔ تب مجھے کام کر کے سو روپے روزانہ ملتے تھے ۔ میں وہ سو روپے گھر لے کر جاتا تھا تو میرے گھر والے اس سے روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے تھے ۔ ایک دن میں اپنے دوستوں کے ساتھ کسی جگہ گھومنے چلا گیا تو میرے پاس وہی سو روپے تھے جو میں نے گھر جا کر دینے تھے ۔
راستے میں میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ مجھے ہوش نہیں تھا ۔ جب آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں تھا اور پریشان تھا کہ میرے گھر والے بھوکے رہ گئے ہوں گے ۔ میرا علاج چلتا رہا تھاتو میری پریشانی بڑھ رہی تھی کہ میری والدہ قرض لے کر گزارا کیا ہو گا اور میرا علاج کروا یا ہو گا ۔۔۔۔۔ جب کچھ دن بعد گھر واپس آیا تو مجھے والدہ نے بتایا کہ جس دن تمہارے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا ۔ اس دن ایک شخص دروازے پر آیا اور کہنے لگا " میں نے عمرے پر جانے کی تیاری کی تھی لیکن یہ رقم تیس ہزار روپے آپ رکھ لیں ۔ وہ پیسے دروازے پر رکھ کر چلا گیا " ۔ اس دن کے بعد کسی نے اس شص کو نہیں دیکھا ۔۔ انسانیت کی معراج....
میرے دوست آج جو اچھی زندگی گزار رہے ہیں اور اللہ نے بہت کچھ عطا کر دیا ہے ۔ آج ان کی یہ عادت اپنانا ہے کہ لوگوں کی بڑے دل سے مدد کرتےر ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہونے دیں.۔ یہی انسانیت ہے اور یہی حقیقی کامیابی ہے ۔ اسی راستے پر فلاح ہے ۔۔۔۔