واہ..کیا دن تھے
واہ کیا سہانے دن ھوتے تھے۔۔ تب گھروں میں بس ایک ہی اس طرح کا فون ھوتا تھا۔۔ اور دل والوں کو بہت زیادہ مسائل ھوتے کہ کیسے بات کریں۔۔ پی سی او والوں سے دوستی لگانی پڑتی اور جب فون کرو گھر کا کوی اور فرد اٹھا لیتا اور کتنے زیادہ مسائل سے سامنا ھوتا رابطے میں۔۔ بس اس زمانے کے دل والے ہی جانتے۔۔ یہ باتیں اج کل کی جنریشن نہیں سمجھ سکتی جن کے ھاتھ میں ھر وقت ایک موبائیل دمک رھا ھوتا
جن گھروں میں فون نہیں ھوتا تھا ان لوگوں نے کسی اور کے گھرکا نمبر دیا ھوتا۔ اور کال کرنے پہ ان کو بلانے کی زمہ داری بھی فون والوں کی ھوتی۔
اور ایک تالا بھی بڑا مشہور تھا اس زمانے میں جو فون کے ڈائل کو لگایا جاتا تھا اور جس کی چابی اکثر "آفس" میں رہ جایا کرتی تھی۔
مہمان کو چاے کی اتنی فکر نہ ہوتی جتنی اس بات کی کہ وہ ایک دو کالیں اپنے دوستوں کو کرکے رعب ڈال سکے۔۔ اور پھر میزبان کے گھر اگر رنگین ٹی وی ہے تو کوی مووی دیکھ لی جاے یا کم از کم چتر ھار تو دیکھ ہی لیں۔۔
یادش بخیر۔۔ اس زمانے کے مسائل بھی سادہ تھے اور مزے
بھی سادہ۔
نئی دنیا..نیا زمانہ..نئے مسئلے